کورونا وائرس: سعودی عرب سے ایران تک مساجد بند تو پاکستان میں کیوں نہیں؟
کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات اور اس کے تیزی سے پھیلاؤ کو نظر میں رکھتے ہوئے سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے سرحدوں کی بندش اور اجتماعات پر پابندی کے ساتھ ساتھ مساجد میں نماز کی ادائیگی بھی روک دی ہے۔ سعودی عرب میں ملک کے مرکزی مذہبی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق مکہ اور مدینہ کی دو مقدس مساجد کے علاوہ ملک کی کسی مسجد میں نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ کویت نے بھی کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان میں ملک بھر میں مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی شامل ہے۔ کویت میں لوگوں کو مسجد آنے کی بجائے گھروں میں نماز کی ادائیگی کی تلقین کی جا رہی ہے۔پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد جمعرات کو 350 سے زیادہ ہو چکی تھی اور سندھ میں حکومت نے جزوی طور پر صوبے کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔صوبہ پنجاب میں بھی حکومت نے کورونا کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کے ساتھ ساتھ اجتماعات اور چار افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی کے علاوہ صوبے بھر میں مزارات اور درگاہوں کو بند کر دیا ہے۔ تاہم پاکستان میں مساجد میں نماز کی ادائیگی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ پاکستان علما کونسل نے حال ہی میں ایک مشترکہ فتوٰی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’نمازِ جمعہ کے خطبے کو مختصر کیا جائے گا اور تمام مذہبی اجتماعات کو فوری طور پر معطل کر دیا جائے گا۔

Post a Comment
0 Comments